بات ایسی نہیں اس بات پہ رونا آیا
بات ایسی نہیں اس بات پہ رونا آیا
ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا
بھول کر بھی نہیں سوچا تھا بچھڑ جائیں گے
آخری ان سے ملاقات پہ رونا آیا
چھوڑ کر چل دئیے جس رات وہ مجھ کو تنہا
یاد کر کے مجھے اس رات پہ رونا آیا
ان کی باتوں کو سنا غور سے میرے بارے
کیا وہ رکھتے ہیں خیالات پہ رونا آیا
اتنا کم تر تو نہ تھا جتنا سمجھ بیٹھے وہ
آج اپنی ہی مجھے ذات پہ رونا آیا
کل تلک جو بھی سوالات تھے تم سے قیصرؔ
آج اپنے ہی سوالات پہ رونا آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.