Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عاشق تھے مگر صاحب دستار رہے ہیں

فیصل شہزاد

عاشق تھے مگر صاحب دستار رہے ہیں

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    عاشق تھے مگر صاحب دستار رہے ہیں

    ہم اپنے قبیلے کے بھی سردار رہے ہیں

    قیمت نہ بتاؤ ہمیں خوشبو کی کہ ہم لوگ

    ہر قسم کے پھولوں کے خریدار رہے ہیں

    مدت ہوئی اک خواب بھی دیکھا نہیں ہم نے

    عرصہ ہوا ہم سو کے بھی بیدار رہے ہیں

    ہم اپنی کہانی کے ہی کردار نہیں تھے

    ہم تیری کہانی کے بھی کردار رہے ہیں

    تجھ سے کبھی مانگا نہ محبت کا صلہ تک

    بس تیری محبت کے گنہ گار رہے ہیں

    ہم سامنے آ کر بھی نہ آئے سر منظر

    دیوار کے آگے پس دیوار رہے ہیں

    دنیا کا کوئی راز نہ پا کر بھی ہمیشہ

    دنیا کی نگاہوں میں پر اسرار رہے ہیں

    ہم لوگ ضمانت پہ رہا ہو نہیں سکتے

    ہم لوگ جو آنکھوں کے گرفتار رہے ہیں

    دنیا کی نظر میں تو رہے کام کے فیصلؔ

    بس تیری نظر میں ہی تو بیکار رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے