عاشق تھے مگر صاحب دستار رہے ہیں
عاشق تھے مگر صاحب دستار رہے ہیں
ہم اپنے قبیلے کے بھی سردار رہے ہیں
قیمت نہ بتاؤ ہمیں خوشبو کی کہ ہم لوگ
ہر قسم کے پھولوں کے خریدار رہے ہیں
مدت ہوئی اک خواب بھی دیکھا نہیں ہم نے
عرصہ ہوا ہم سو کے بھی بیدار رہے ہیں
ہم اپنی کہانی کے ہی کردار نہیں تھے
ہم تیری کہانی کے بھی کردار رہے ہیں
تجھ سے کبھی مانگا نہ محبت کا صلہ تک
بس تیری محبت کے گنہ گار رہے ہیں
ہم سامنے آ کر بھی نہ آئے سر منظر
دیوار کے آگے پس دیوار رہے ہیں
دنیا کا کوئی راز نہ پا کر بھی ہمیشہ
دنیا کی نگاہوں میں پر اسرار رہے ہیں
ہم لوگ ضمانت پہ رہا ہو نہیں سکتے
ہم لوگ جو آنکھوں کے گرفتار رہے ہیں
دنیا کی نظر میں تو رہے کام کے فیصلؔ
بس تیری نظر میں ہی تو بیکار رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.