آنکھوں سے خواب لب سے ہنسی چھین لی گئی
آنکھوں سے خواب لب سے ہنسی چھین لی گئی
ہر چند مجھ سے میری خوشی چھین لی گئی
راحت تو زندگی کے مسائل میں گھر گئی
پھر زندگی ہی باقی بچی چھین لی گئی
خاموشیوں کو ہم نے مقدر سمجھ لیا
جب سے ہماری تشنہ لبی چھین لی گئی
محروم رکھ کے علم سے نسل جدید کو
ہم سے ہماری ایک صدی چھین لی گئی
چاہا تھا مسکرانے کا اظہار ہم کریں
ایسی سزا ملی کہ ہنسی چھین لی گئی
کیوں ہیں تماش بینوں میں ہر ظلم دیکھ کر
غیرت کے ساتھ زندہ دلی چھین لی گئی
دنیا ہے کس فریب حکایت میں مبتلا
آواز یا کہ دیدہ وری چھین لی گئی
کچھ اور زندگی کے مسائل بھی بڑھ گئے
جب سے حبیبؔ سادہ دلی چھین لی گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.