Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

قربان علی سالک بیگ

لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

قربان علی سالک بیگ

لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

کام دے اے خامشی فریاد کا

کیوں کہ لے تصویر اس کی دیکھیے

ہاتھ قابو میں نہیں بہزاد کا

عمر بھر رکھتا ہے پابند کمیں

صید خود اک دام ہے صیاد کا

دعویٔ باطل کی پرسش رہ گئی

کون پرساں حسرت شداد کا

دور تک اپنی نگاہیں ہیں رسا

پردہ حائل گر نہ ہو ایجاد کا

کون یاں قید تعلق میں نہیں

پا بہ گل ہے سرو سے آزاد کا

دل میں جب آئے کہ اس نے سن لیا

نارسا کیوں نام ہے فریاد کا

آپ ہی گردش سے ہے مجبور چرخ

چاہنا ایسے سے کیا امداد کا

دیکھیے کثرت سے وحدت کو تو ہے

ایک جلوہ موجد و ایجاد کا

کوہ کن نے عمر بھر کاٹا پہاڑ

میں ہوں جویا چرخ کی بنیاد کا

بچ گیا تیر نگاہ یار سے

واقعی آئینہ ہے فولاد کا

بھولا ہے دین و دنیا آدمی

خاصہ ہے یہ بتوں کی یاد کا

پہلے نفغ صور سے آ جاؤں یاں

شک نہ ہو تم کو مری فریاد کا

ضربت تیشہ تھی پتھر کی لکیر

نام مٹتا ہی نہیں فرہاد کا

خود اڑا جاتا ہوں سالکؔ ضعف سے

آہ میں طوفاں ہے قوم‌ عاد کا

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے