محفل سجی تھی رات غزل کی نگاہ سے
محفل سجی تھی رات غزل کی نگاہ سے
خوش تھی مری حیات غزل کی نگاہ سے
واقف تو پہلے ہو لیں مزاج غزل سے آپ
ورنہ نہ ہوگی بات غزل کی نگاہ سے
فرقت الم کے پھول نظر آئیں گے تمہیں
دیکھو گے تم جو رات غزل کی نگاہ سے
تنہائیوں میں بارہا پوچھا حیات نے
پاؤ گے کب نجات غزل کی نگاہ سے
رشتہ ہے اس کا سب سے یہ سب کی عزیز ہے
پوچھیں نہ ذات پات غزل کی نگاہ سے
افکار کے گلاب سے خوش رنگ ہو گئے
سجتے ہیں کاغذات غزل کی نگاہ سے
وہ سرخ رو ہوا ہے ہر اک صنف میں ظفرؔ
کھائی نہ جس نے مات غزل کی نگاہ سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.