Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں کیسے یقیں کر لوں تو سچ بول رہا ہے

سالم عظیم

میں کیسے یقیں کر لوں تو سچ بول رہا ہے

سالم عظیم

MORE BYسالم عظیم

    میں کیسے یقیں کر لوں تو سچ بول رہا ہے

    اکثر تری باتوں میں بڑا جھول رہا ہے

    اب خون کے رشتے کو میں آزاد کروں گا

    اڑنے کو زمانے میں وہ پر کھول رہا ہے

    محبوب کے دیدار کی خواہش لئے دل میں

    دیوانہ سر‌ راہ گزر ڈول رہا ہے

    مغرور ہے مضروب ہے یا پھر کوئی کاہل

    دانتوں سے جو انسان گرہ کھول رہا ہے

    شاید اسے احسان کی قیمت نہیں معلوم

    کم ظرف ترازو میں وفا تول رہا ہے

    میں نے کبھی مطلب سے نہیں رکھا تعلق

    اخلاص سے مملو مرا کشکول رہا ہے

    ہر لفظ سے ہوتی رہی تعمیر ادب کی

    شاعر تو ہر اک دور میں انمول رہا ہے

    گرویدہ عظیمؔ اس لئے دنیا ہوئی تیری

    واللہ غزل میں ترا فن بول رہا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے