میں کیسے یقیں کر لوں تو سچ بول رہا ہے
میں کیسے یقیں کر لوں تو سچ بول رہا ہے
اکثر تری باتوں میں بڑا جھول رہا ہے
اب خون کے رشتے کو میں آزاد کروں گا
اڑنے کو زمانے میں وہ پر کھول رہا ہے
محبوب کے دیدار کی خواہش لئے دل میں
دیوانہ سر راہ گزر ڈول رہا ہے
مغرور ہے مضروب ہے یا پھر کوئی کاہل
دانتوں سے جو انسان گرہ کھول رہا ہے
شاید اسے احسان کی قیمت نہیں معلوم
کم ظرف ترازو میں وفا تول رہا ہے
میں نے کبھی مطلب سے نہیں رکھا تعلق
اخلاص سے مملو مرا کشکول رہا ہے
ہر لفظ سے ہوتی رہی تعمیر ادب کی
شاعر تو ہر اک دور میں انمول رہا ہے
گرویدہ عظیمؔ اس لئے دنیا ہوئی تیری
واللہ غزل میں ترا فن بول رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.