جو لفظ جوڑ توڑ کے مشہور ہو گئے
جو لفظ جوڑ توڑ کے مشہور ہو گئے
اہل سخن انہی سے ہی رنجور ہو گئے
جو اہل ظرف تھے وہ یونہی چپ کیے رہے
کچھ داد پا کے تھوڑی سی مغرور ہو گئے
بازار مصلحت میں جو بکنے لگے ضمیر
وہ دیکھتے ہی دیکھتے منظور ہو گئے
قائم رہے جو رسم حسینی پہ عمر بھر
وہ داستان وقت میں مذکور ہو گئے
جو اہل دل تھے درد کو سینے میں لے چلے
کچھ بے ضمیر راہ سے مفرور ہو گئے
کردار کی کتاب کو کس نے بھلا پڑھا
چہروں پہ لکھے جھوٹ ہی منشور ہو گئے
لہجے میں تلخ سچ ہوا بھاری جو جان پر
کچھ لوگ کم شناس تھے مجبور ہو گئے
ہم اپنی سادگی پہ ہمیشہ ڈٹے رہے
عنبرؔ وہ اپنی چال پہ مسرور ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.