جس کو غرض ہے نام سے اور آوازے سے
جس کو غرض ہے نام سے اور آوازے سے
اس کا ٹھکانا باہر ہے دروازے سے
تم نے یقین سے ہونٹوں کو سینا سیکھا
ہم نے کوئی بات تو کی اندازے سے
ناقدری نے صریر قلم کو تیز کیا
یہ نشہ تو اور چڑھا خمیازے سے
قفس کے باہر پیلے پتے اڑتے ہیں
یارو دو اک پھول دکھاؤ تازے سے
سیدؔ تیرے کفر سے دیں کمزور ہوا
ایک ورق تو نکل گیا شیرازے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.