نت نئی کتنی کتابیں چاٹتی رہتی ہوں میں
نت نئی کتنی کتابیں چاٹتی رہتی ہوں میں
اور جو کچھ پڑھ چکی ہوں بھولتی رہتی ہوں میں
میں کہ ہوں دیوانگی کے موڑ پر بیٹھی ہوئی
راستہ چلتوں پہ پتھر پھینکتی رہتی ہوں میں
چیختے لمحات کے گنبد میں ہوں اب تک اسیر
ہر گھڑی باہر کا رستہ ڈھونڈتی رہتی ہوں میں
باوجود اس کے کہ میرا کچھ نہیں لگتا ہے تو
نام کوئی لے ترا تو سوچتی رہتی ہوں میں
رات جب آتی ہے اگ آتی ہے اک دیوار سنگ
جس کو زخمی ناخنوں سے کھودتی رہتی ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.