کوئی گلہ نہ شور شرابہ کیا گیا
کوئی گلہ نہ شور شرابہ کیا گیا
چپ چاپ صرف اپنا خسارہ کیا گیا
دل ڈر رہا تھا اور بچھڑنا بھی فرض تھا
سو اس کو بوسہ دے کے روانہ کیا گیا
سگریٹ کا کش لگا کے خیالوں کی موج میں
وہ کیا تھا جس کا آج تماشا کیا گیا
تم جانتے نہیں ہو تمہارے فراق میں
دل کے قرار کے لیے کیا کیا کیا گیا
تیری طرف بھی بخت کہاں دیر تک رہے
میری طرف بھی صرف گزارا کیا گیا
کتنے ہی گھڑسوار وہاں منہ کے بل گرے
اس کی طرف سے ایک اشارہ کیا گیا
دراصل اس نے پیار کیا اور شخص سے
حسامؔ میرے ساتھ ڈرامہ کیا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.