کس طرح کوئی دھوپ میں پگھلے ہے جلے ہے
کس طرح کوئی دھوپ میں پگھلے ہے جلے ہے
یہ بات وہ کیا جانے جو سائے میں پلے ہے
دل درد کی بھٹی میں کئی بار جلے ہے
تب ایک غزل حسن کے سانچے میں ڈھلے ہے
کیا دل ہے کہ اک سانس بھی آرام نہ لے ہے
محفل سے جو نکلے ہے تو خلوت میں جلے ہے
بھولی ہوئی یاد آ کے کلیجے کو ملے ہے
جب شام گزر جائے ہے جب رات ڈھلے ہے
ہاں دیکھ ذرا کیا ترے قدموں کے تلے ہے
ٹھوکر بھی وہ کھائے ہے جو اترا کے چلے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.