دور حاضر میں بھی قصہ وہی انکار کا ہے
دور حاضر میں بھی قصہ وہی انکار کا ہے
یہ جو جھگڑا ہے سروں کا نہیں دستار کا ہے
لاکھ دکھلاتے رہے جوہر افکار و ہنر
تذکرہ بزم میں فن کا نہیں فنکار کا ہے
عمر بھر کے لئے جو دل میں اتر جاتا ہے
رخ روشن کا نہیں حسن وہ کردار کا ہے
کس کی تخلیق ہے کیسی ہے کہیں نام نہیں
ذکر محفل میں ہر اک سمت اداکار کا ہے
دھوپ سے نفس کی بچنے کے لئے کافی ہے
میرے آنگن میں جو سایہ تری دیوار کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.