زلف و زنجیر سے نکل آیا
زلف و زنجیر سے نکل آیا
لفظ تاثیر سے نکل آیا
اس کے آنے کی دیر تھی اور بس
عشق تحریر سے نکل آیا
ساتھ اپنے شکست دل کر کے
میں در میر سے نکل آیا
دل کی دنیا بدل گئی میری
عکس تصویر سے نکل آیا
ایک بوسیدہ شال لے کر میں
اپنی جاگیر سے نکل آیا
میرے زخموں کو پھر ملی راحت
پاؤں زنجیر سے نکل آیا
آج تک جو نہ کر سکی دنیا
کام وہ ہیر سے نکل آیا
دیکھتے دیکھتے ہوا کل شب
خواب تعبیر سے نکل آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.