سب کے حصے میں کئی بار ہے بٹ کر دیکھا
سب کے حصے میں کئی بار ہے بٹ کر دیکھا
کچھ نہ حاصل ہوا منظر سے بھی ہٹ کر دیکھا
دور بیکار سا مبہم سا نظر آتا ہوں
آئنے سے بھی بہر طور چمٹ کر دیکھا
ہے مسلسل مرے سر دھوپ کسی صحرا سی
لاکھ دیواروں کے سائے سے لپٹ کر دیکھا
فرق ہونے سے نہ ہونے سے مرے کچھ بھی نہیں
بارہا ہم نے کہانی میں سمٹ کر دیکھا
کتنی حسرت تھی کہ انجام بدل جائے گا
ورق آخر کا کئی بار پلٹ کر دیکھا
پھر یہی ہوتا ہے رہ جاتا ہوں تنہا میں ہی
وقت کے ساز کو ہر لے کو الٹ کر دیکھا
جتنی شدت سے مرے خواب کو توڑا گیا ہے
اتنی شدت سے وہی خواب ہے ڈٹ کر دیکھا
جو پرکھ سکتی ہمیں آنکھ میسر نہ ہوئی
اپنی قیمت سے بھی ابرکؔ نے تو گھٹ کر دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.