Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سب کے حصے میں کئی بار ہے بٹ کر دیکھا

اتباف ابرک

سب کے حصے میں کئی بار ہے بٹ کر دیکھا

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    سب کے حصے میں کئی بار ہے بٹ کر دیکھا

    کچھ نہ حاصل ہوا منظر سے بھی ہٹ کر دیکھا

    دور بیکار سا مبہم سا نظر آتا ہوں

    آئنے سے بھی بہر طور چمٹ کر دیکھا

    ہے مسلسل مرے سر دھوپ کسی صحرا سی

    لاکھ دیواروں کے سائے سے لپٹ کر دیکھا

    فرق ہونے سے نہ ہونے سے مرے کچھ بھی نہیں

    بارہا ہم نے کہانی میں سمٹ کر دیکھا

    کتنی حسرت تھی کہ انجام بدل جائے گا

    ورق آخر کا کئی بار پلٹ کر دیکھا

    پھر یہی ہوتا ہے رہ جاتا ہوں تنہا میں ہی

    وقت کے ساز کو ہر لے کو الٹ کر دیکھا

    جتنی شدت سے مرے خواب کو توڑا گیا ہے

    اتنی شدت سے وہی خواب ہے ڈٹ کر دیکھا

    جو پرکھ سکتی ہمیں آنکھ میسر نہ ہوئی

    اپنی قیمت سے بھی ابرکؔ نے تو گھٹ کر دیکھا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے