پانے کے لیے ہے نہ گنوانے کے لئے ہے
پانے کے لیے ہے نہ گنوانے کے لئے ہے
یہ زیست اداسی سے نبھانے کے لئے ہے
چہرے سے عیاں ہوتی ہے تکلیف کی شدت
ہونٹوں پہ تبسم تو زمانے کے لئے ہے
ہر بار خفا ہوتا ہے اس واسطے مجھ سے
اس کو ہے یقیں کوئی منانے کے لئے ہے
اس آنکھ کو اب نیند نہیں ہوتی میسر
یہ آنکھ ترے خواب سجانے کے لئے ہے
وہ وقت ٹھہر جائے نہ اس شب کی سحر ہو
جو وقت ترے ساتھ بتانے کے لئے ہے
کچھ دیر کی مہلت ہمیں اے موت ذرا دے
اک وعدہ ابھی اور نبھانے کے لئے ہے
ایک وہ ہی فقط خوش ہے بلندی پہ ہماری
دنیا ہمیں ہر گام گرانے کے لئے ہے
اس دل کی نہ خواہش نہ تمنا کوئی الماسؔ
یہ دل تو ترے ناز اٹھانے کے لئے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.