Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پانے کے لیے ہے نہ گنوانے کے لئے ہے

الماس زینب رضوی

پانے کے لیے ہے نہ گنوانے کے لئے ہے

الماس زینب رضوی

MORE BYالماس زینب رضوی

    پانے کے لیے ہے نہ گنوانے کے لئے ہے

    یہ زیست اداسی سے نبھانے کے لئے ہے

    چہرے سے عیاں ہوتی ہے تکلیف کی شدت

    ہونٹوں پہ تبسم تو زمانے کے لئے ہے

    ہر بار خفا ہوتا ہے اس واسطے مجھ سے

    اس کو ہے یقیں کوئی منانے کے لئے ہے

    اس آنکھ کو اب نیند نہیں ہوتی میسر

    یہ آنکھ ترے خواب سجانے کے لئے ہے

    وہ وقت ٹھہر جائے نہ اس شب کی سحر ہو

    جو وقت ترے ساتھ بتانے کے لئے ہے

    کچھ دیر کی مہلت ہمیں اے موت ذرا دے

    اک وعدہ ابھی اور نبھانے کے لئے ہے

    ایک وہ ہی فقط خوش ہے بلندی پہ ہماری

    دنیا ہمیں ہر گام گرانے کے لئے ہے

    اس دل کی نہ خواہش نہ تمنا کوئی الماسؔ

    یہ دل تو ترے ناز اٹھانے کے لئے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے