نام تمہارا لکھتے لکھتے کاغذ پر
نام تمہارا لکھتے لکھتے کاغذ پر
بن جاتے ہیں نقش سنہرے کاغذ پر
منظر منظر عکس تمہارا بکھرا ہے
تم ہی تم ہو رنگ برنگے کاغذ پر
دل پر ایسا بوجھ ہے تیری یادوں کا
جیسے کوئی پتھر رکھ دے کاغذ پر
اک بوڑھی عورت کا فوٹو دیکھا ہے
دنیا بھر کا درد سمیٹے کاغذ پر
کاغذ کاغذ چوم رہا ہوں آنکھوں سے
لکھے ہیں کچھ پاک صحیفے کاغذ پر
حائل ہے دیوار جہاں کی راہوں میں
ملنے کے ہیں لاکھ طریقے کاغذ پر
دیکھ کے مضطرؔ گھر میں بچے روتے ہیں
مٹی کے نایاب کھلونے کاغذ پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.