خبر جو اب تلک پہنچی نہیں ہے
خبر جو اب تلک پہنچی نہیں ہے
ہمارے واسطے اچھی نہیں ہے
بدن میدان میں ہارا ہوا ہے
ابھی ہمت مگر ہاری نہیں ہے
اسے ہم عشق سمجھیں یا نہ سمجھیں
ہمیں وہ اب تلک بھولی نہیں ہے
کسی کا ہو تو جاتا پر مری جاں
طبیعت ہے کہ جو مانی نہیں ہے
مرے محبوب کے جیسی ہے بارش
بلانے پر کبھی آئی نہیں ہے
ہمارے خواب جو ٹوٹے ہوئے ہیں
ہماری نیند جو پوری نہیں ہے
ترا چہرہ ہے آنکھوں میں ابھی تک
کہ پچھلی رات کی اتری نہیں ہے
مناؤں گا تو شاید مان جائے
ابھی وہ اس قدر روٹھی نہیں ہے
محبت گھر تو آئی ہے ہمارے
مگر ہاں دیر تک ٹھہری نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.