ہر زخم ہی ہر اک کو دکھایا نہیں جاتا
ہر زخم ہی ہر اک کو دکھایا نہیں جاتا
دل ایسے سر عام لٹایا نہیں جاتا
جو خواب کہ آنکھوں سے چھلکنے پہ تلا ہو
وہ خواب کبھی دل میں چھپایا نہیں جاتا
جس میں نہ ہو احساس وہ لہجہ ہے بھلا کیا
ایسے کسی لہجے میں سمایا نہیں جاتا
جانے کا ارادہ ہو تو پھر جانا ہی بہتر
یوں کھینچ کے ہر اک کو بٹھایا نہیں جاتا
جس دل پہ نہ اتریں کبھی الہام کے سائے
اس دل میں محبت کو بسایا نہیں جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.