گمشدہ خواب کی تعبیر لیے آتے ہیں
گمشدہ خواب کی تعبیر لیے آتے ہیں
گریۂ ہجر کی تفسیر لیے آتے ہیں
ایک ہم ہیں کہ میسر نہیں اک مشت غبار
لوگ بازار سے تقدیر لیے آتے ہیں
دل کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں یہ سوچ کے ہم
آنے والے کبھی جاگیر لیے آتے ہیں
کتنے چالاک ہیں آنکھوں میں تبسم رکھ کر
میری خدمت میں وہ تعزیر لیے آتے ہیں
رسم ماتم ہے ہر اک شخص گریزاں ہے یہاں
اشک پارے رخ شمشیر لیے آتے ہیں
خواب گاہوں کو قرینے سے سجانے کے لیے
ریگ و صندل زر و زنجیر لیے آتے ہیں
ختم ہوتے ہی نہیں خواب و فسانہ غم کے
جان و دل نالۂ شب گیر لیے آتے ہیں
دن گزرتا ہی نہیں رات چلی آتی ہے
دھندلکے رات کی تصویر لیے آتے ہیں
آہ سوزاں سے بھی جلتے ہیں ہواؤں کے بدن
سلسلے زخم کے زنجیر لیے آتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.