Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گمشدہ خواب کی تعبیر لیے آتے ہیں

جاوید ہمایوں

گمشدہ خواب کی تعبیر لیے آتے ہیں

جاوید ہمایوں

MORE BYجاوید ہمایوں

    گمشدہ خواب کی تعبیر لیے آتے ہیں

    گریۂ ہجر کی تفسیر لیے آتے ہیں

    ایک ہم ہیں کہ میسر نہیں اک مشت غبار

    لوگ بازار سے تقدیر لیے آتے ہیں

    دل کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں یہ سوچ کے ہم

    آنے والے کبھی جاگیر لیے آتے ہیں

    کتنے چالاک ہیں آنکھوں میں تبسم رکھ کر

    میری خدمت میں وہ تعزیر لیے آتے ہیں

    رسم ماتم ہے ہر اک شخص گریزاں ہے یہاں

    اشک پارے رخ شمشیر لیے آتے ہیں

    خواب گاہوں کو قرینے سے سجانے کے لیے

    ریگ و صندل زر و زنجیر لیے آتے ہیں

    ختم ہوتے ہی نہیں خواب و فسانہ غم کے

    جان و دل نالۂ شب گیر لیے آتے ہیں

    دن گزرتا ہی نہیں رات چلی آتی ہے

    دھندلکے رات کی تصویر لیے آتے ہیں

    آہ سوزاں سے بھی جلتے ہیں ہواؤں کے بدن

    سلسلے زخم کے زنجیر لیے آتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے