دل اب تک یہ سوچ رہا ہے
دل اب تک یہ سوچ رہا ہے
یہ ملنا بھی کیا ملنا ہے
جیسے کوئی انجان مسافر
رستے میں حیران کھڑا ہے
جیسے کوئی پیڑ اکیلا
بادل کی جانب تکتا ہے
جیسے کوئی چاند کا ٹکڑا
دریا دریا بکھر گیا ہے
تیری یاد کا جھونکا آیا
شام کا آنچل بھیگ چلا ہے
جانے تو کب مجھ سے ملی تھی
جانے کب وہ وقت آیا ہے
تو نے مجھ کو چوم لیا تھا
یا میں نے سپنا دیکھا ہے
رات اک ایسی بھی آئی تھی
یا جانے کیا مجھ کو ہوا ہے
تو نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا
اب وہ مجھ کو یاد آتا ہے
تیرے سانسوں کی حدت سے
سینہ اب تک دہک رہا ہے
تیرے لمس کی آگ لگی ہے
میرا بدن پگھلا جاتا ہے
تجھ سے مل کر اپنے اوپر
میں نے کتنا ظلم کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.