Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل اب تک یہ سوچ رہا ہے

جمیل یوسف

دل اب تک یہ سوچ رہا ہے

جمیل یوسف

MORE BYجمیل یوسف

    دل اب تک یہ سوچ رہا ہے

    یہ ملنا بھی کیا ملنا ہے

    جیسے کوئی انجان مسافر

    رستے میں حیران کھڑا ہے

    جیسے کوئی پیڑ اکیلا

    بادل کی جانب تکتا ہے

    جیسے کوئی چاند کا ٹکڑا

    دریا دریا بکھر گیا ہے

    تیری یاد کا جھونکا آیا

    شام کا آنچل بھیگ چلا ہے

    جانے تو کب مجھ سے ملی تھی

    جانے کب وہ وقت آیا ہے

    تو نے مجھ کو چوم لیا تھا

    یا میں نے سپنا دیکھا ہے

    رات اک ایسی بھی آئی تھی

    یا جانے کیا مجھ کو ہوا ہے

    تو نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا

    اب وہ مجھ کو یاد آتا ہے

    تیرے سانسوں کی حدت سے

    سینہ اب تک دہک رہا ہے

    تیرے لمس کی آگ لگی ہے

    میرا بدن پگھلا جاتا ہے

    تجھ سے مل کر اپنے اوپر

    میں نے کتنا ظلم کیا ہے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے