بکھر رہی ہے مری روح بھی شباب کے ساتھ
بکھر رہی ہے مری روح بھی شباب کے ساتھ
کچھ اور رنگ ڈھلے ہیں اب اس گلاب کے ساتھ
وہ میرے پاس تھا لیکن دھواں سا لگتا تھا
میں جی رہی تھی کسی ان کہے سے خواب کے ساتھ
ہوائے شہر ذرا اس کا عکس تو لانا
وہ تھک گیا ہے مری جاں کسی نقاب کے ساتھ
عجیب پیاس کا عالم ہے میری ہستی میں
میں دوڑتی ہوں کسی دشت کے سراب کے ساتھ
لکھی گئی ہے شکست اب حروف سے پہلے
وفا کا کھیل بھی کھیلا گیا حساب کے ساتھ
ابھی تو قرب کی خوشبو نے رستہ ڈھونڈا تھا
جدا ہوا ہے وہ اب موسم خراب کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.