آنکھوں میں ایک سلسلۂ خواب سا رہا
آنکھوں میں ایک سلسلۂ خواب سا رہا
بے نام سی تلاش میں بے تاب سا رہا
اشکوں میں تیرے حسن کی لو تیرتی رہی
پانی کے آسمان پہ مہتاب سا رہا
دریا سی جب حیات کو گہرائی مل گئی
ساحل کے آس پاس بھی گرداب سا رہا
لایا گیا زباں پہ مجھے توڑ توڑ کر
میں ایک داستاں تھا مگر باب سا رہا
اندر تو آبشار سے مجھ میں گرا کیے
اور دیکھنے میں ماہی بے آب سا رہا
خالی وجود ہی لیے پھرتا رہا مگر
کاندھوں پہ عمر بھر مرے اسباب سا رہا
نغمے بکھیرتا ہے مرا حرف تلخ بھی
خامہ بھی میرے ہاتھ میں مضراب سا رہا
خائف سا ہے اگر مرا لہجہ تو کیا کروں
فکر و نظر پہ غلبۂ اعصاب سا رہا
کام آئی شاعری بھی مظفرؔ کے کس قدر
تنہائی میں بھی مجمع احباب سا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.