زندگی دیکھ نہ اب اتنی بھی حیرانی سے
زندگی دیکھ نہ اب اتنی بھی حیرانی سے
میں نکل آیا محبت کی پریشانی سے
خرچ کرتا ہوں میں گن گن کے خوشی کے لمحات
کہاں ملتی ہے خوشی اتنی فراوانی سے
میں تو بہنے لگا حالات کے دریاؤں میں
اے سمندر میں ڈرا کب تری طغیانی سے
کیوں نہ آغاز محبت سے پلٹ آیا میں
ادھ موا ہو گیا دل ہلکی پشیمانی سے
یوں توجہ نہ مجھے دے مرے دل دار کہ میں
مر بھی سکتا ہوں محبت کی فراوانی سے
جب سے چوما ہے بلالؔ اس نے مرے ماتھے کو
نور جاری ہے مری سرمئی پیشانی سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.