رند بے مایہ کی یہ مے طلبی اے ساقی
رند بے مایہ کی یہ مے طلبی اے ساقی
بیچ ڈالی ہے گراں قدر خودی اے ساقی
ہم نوا گردش ایام ہوئی جاتی ہے
اف یہ دیوانوں کی آشفتہ سری اے ساقی
پھونک ڈالا جبل طور کا ذرہ ذرہ
حسن اور حسن کی یہ جلوہ گری اے ساقی
پیش دستی مرے آئین سے باہر ہے تو ہو
مجھ سے دیکھی نہ گئی تشنہ لبی اے ساقی
قافلے حد توہم میں بھٹکتے ہیں ابھی
رہنماؤں کی یہ بے راہ روی اے ساقی
اک تبسم پہ ہے گلشن کی حیات ابدی
قابل دید ہے غنچوں کی ہنسی اے ساقی
اک نئی صبح کے جلوؤں نے بکھیریں کرنیں
گم ہوئی جاتی ہے اب تیرہ شبی اے ساقی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.