اکھڑے رہیں جب تک مٹی سے بنیاد سے جب تک ہلے رہیں
اکھڑے رہیں جب تک مٹی سے بنیاد سے جب تک ہلے رہیں
دیوار کے پاؤں کیا ٹھہریں معمار سے ہم کو گلے رہیں
رستے میں بہت ہیں سنگ ابھی ہم اور دکھا لیں رنگ ابھی
گر خون بہا ہے اور بہے گر جسم چھلے ہیں چھلے رہیں
تم اڑتے رہو بے سمت اونچے جھوٹے ہیں خلاؤں کے رشتے
وابستہ رکھیں جو دھرتی سے اپنے تو وہی سلسلے رہیں
ہم چاروں سمتوں کے باسی اک فوج ہوں دستوں کی صورت
ہم چوک کے رستوں کی صورت جتنے بھی دور ہوں ملے رہیں
یہ رسم جنوں بھی کیسی ہے چہرے آلودۂ خاک رہیں
ہم یونہی گریباں چاک رہیں اور ان کے گریباں سلے رہیں
کیوں بکیں کسی گلداں کے لیے ہم پھول ہیں اپنی ماں کے لیے
ہم دامن شاخ سے لپٹے رہیں مرجھا جائیں یا کھلے رہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.