Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اکھڑے رہیں جب تک مٹی سے بنیاد سے جب تک ہلے رہیں

اقبال کوثر

اکھڑے رہیں جب تک مٹی سے بنیاد سے جب تک ہلے رہیں

اقبال کوثر

MORE BYاقبال کوثر

    اکھڑے رہیں جب تک مٹی سے بنیاد سے جب تک ہلے رہیں

    دیوار کے پاؤں کیا ٹھہریں معمار سے ہم کو گلے رہیں

    رستے میں بہت ہیں سنگ ابھی ہم اور دکھا لیں رنگ ابھی

    گر خون بہا ہے اور بہے گر جسم چھلے ہیں چھلے رہیں

    تم اڑتے رہو بے سمت اونچے جھوٹے ہیں خلاؤں کے رشتے

    وابستہ رکھیں جو دھرتی سے اپنے تو وہی سلسلے رہیں

    ہم چاروں سمتوں کے باسی اک فوج ہوں دستوں کی صورت

    ہم چوک کے رستوں کی صورت جتنے بھی دور ہوں ملے رہیں

    یہ رسم جنوں بھی کیسی ہے چہرے آلودۂ خاک رہیں

    ہم یونہی گریباں چاک رہیں اور ان کے گریباں سلے رہیں

    کیوں بکیں کسی گلداں کے لیے ہم پھول ہیں اپنی ماں کے لیے

    ہم دامن شاخ سے لپٹے رہیں مرجھا جائیں یا کھلے رہیں

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے