صحرا کی سمت جاؤں تو سب کو گھٹا لگوں
صحرا کی سمت جاؤں تو سب کو گھٹا لگوں
گزروں جو شہر گل سے تو باد صبا لگوں
تسلیم کے لباس میں موسیٰ کا ہو گمان
آؤں جو سرکشی پہ تو فرعون سا لگوں
میں اپنی شخصیت میں ابھاروں وہ خد و خال
ملتے ہوئے بھی سب سے سبھوں سے جدا لگوں
مجھ کو عقیدتوں کے دریچے سے یوں نہ دیکھ
ایسا نہ ہو کہ بعد میں تجھ کو خدا لگوں
دامن میں جس کے کھلتے نہیں ہیں گل شناخت
اس کی نگاہ میں خس و خاشاک سا لگوں
میں ہوں غرور شعلگیٔ شمس کا شکار
سوکھے ہوئے اکیلے شجر کا تنا لگوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.