قید زماں سے آگے قید مکاں سے آگے
قید زماں سے آگے قید مکاں سے آگے
پرواز کر رہا ہوں میں آسماں سے آگے
اے برق میری فطرت معمار آشیاں ہے
ہیں سینکڑوں نشیمن اس آشیاں سے آگے
واعظ کی تنگ نظری واعظ ہی کو مبارک
میرا مقام دل ہے باغ جناں سے آگے
اے شیخ تیرے سجدے محدود ہیں وہیں تک
میں سر جھکا رہا ہوں جس آستاں سے آگے
اک جاوداں ترنم اک جاوداں تبسم
میرے لیے ہیں مضطر اس گلستاں سے آگے
عزم و عمل ہمارے اے دل ہیں گر سلامت
عالم نیا بنے گا دونوں جہاں سے آگے
گھبرا کے بزدلی سے تنگ آ کے بے بسی سے
ہندیؔ گیا ہے شاید ہندوستاں سے آگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.