Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجھی سے شہر میں کیوں اجتناب ہے بھائی

توفیق ساگر

مجھی سے شہر میں کیوں اجتناب ہے بھائی

توفیق ساگر

MORE BYتوفیق ساگر

    مجھی سے شہر میں کیوں اجتناب ہے بھائی

    مرے بھی ہاتھ میں تازہ گلاب ہے بھائی

    یہ ٹمٹماتا ہوا اک چراغ ہے لیکن

    یہی ہمارے لئے آفتاب ہے بھائی

    نئے مکاں میں نئے دوستوں سے ملتا ہوں

    پرانے گھر میں پرانی کتاب ہے بھائی

    یہاں بھی پھول کے پودوں میں پھول کھلتے ہیں

    ہمارے شہر کی مٹی خراب ہے بھائی

    ترے سوال پہ جو لا جواب رہتا ہے

    اسی کے پاس مکمل جواب ہے بھائی

    تمہاری طرح مجھے بھی تلاش ہے اپنی

    مرا خودی سے پرانا حساب ہے بھائی

    جو اشک بہہ نہ سکے میں تڑپ کے مر جاؤں

    مجھے رلاؤ کہ کار ثواب ہے بھائی

    سزا کے طور پہ آنکھوں کو نوچ لو لیکن

    ذرا سنبھل کے محبت کا خواب ہے بھائی

    مہک رہی ہے ابھی تک تری غزل ساگرؔ

    مشاعرہ تو بڑا کامیاب ہے بھائی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے