مجھی سے شہر میں کیوں اجتناب ہے بھائی
مجھی سے شہر میں کیوں اجتناب ہے بھائی
مرے بھی ہاتھ میں تازہ گلاب ہے بھائی
یہ ٹمٹماتا ہوا اک چراغ ہے لیکن
یہی ہمارے لئے آفتاب ہے بھائی
نئے مکاں میں نئے دوستوں سے ملتا ہوں
پرانے گھر میں پرانی کتاب ہے بھائی
یہاں بھی پھول کے پودوں میں پھول کھلتے ہیں
ہمارے شہر کی مٹی خراب ہے بھائی
ترے سوال پہ جو لا جواب رہتا ہے
اسی کے پاس مکمل جواب ہے بھائی
تمہاری طرح مجھے بھی تلاش ہے اپنی
مرا خودی سے پرانا حساب ہے بھائی
جو اشک بہہ نہ سکے میں تڑپ کے مر جاؤں
مجھے رلاؤ کہ کار ثواب ہے بھائی
سزا کے طور پہ آنکھوں کو نوچ لو لیکن
ذرا سنبھل کے محبت کا خواب ہے بھائی
مہک رہی ہے ابھی تک تری غزل ساگرؔ
مشاعرہ تو بڑا کامیاب ہے بھائی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.