مجھے لگا کہ یہ نازل کوئی عذاب ہوا
مجھے لگا کہ یہ نازل کوئی عذاب ہوا
تری وفاؤں کا جب بند مجھ پہ باب ہوا
وہ دل فریب کہاں کھو گیا کہ اب مجھ پر
وصال رت کا ہر امکاں خیال و خواب ہوا
اسی کا بھاؤ ہمیشہ گرا سر بازار
جو دوسروں کو بہ آسانی دستیاب ہوا
کریں ہیں آبرو پوشی ذرا سے چتھڑے سے
کہاں پہ قرض لیا تھا کہاں حساب ہوا
ترا ہی عکس مری ذات میں نمایاں ہے
تری عطا سے میں ذرے سے آفتاب ہوا
دیار شعر کا اک سالک سخن ہوں میں
کہ میرے در پہ جو آیا وہ فیض یاب ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.