Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مرا معمہ غرض کا ہے دسترس کا نہیں

عبداللہ علی ہاشمی

مرا معمہ غرض کا ہے دسترس کا نہیں

عبداللہ علی ہاشمی

MORE BYعبداللہ علی ہاشمی

    مرا معمہ غرض کا ہے دسترس کا نہیں

    کہ میرا عشق میاں ایک دو برس کا نہیں

    تجھے ملا ہوں تو معلوم یہ ہوا ہے مجھے

    یہ کار عشق ہر اک خوبرو کے بس کا نہیں

    ہم اہل عشق اسے مسئلہ نہیں کہتے

    وہ مسئلہ جو محبت کا ہے ہوس کا نہیں

    بھلے میں بعد ترے قید بے اماں میں رہوں

    معاملہ مری مرضی کا ہے قفس کا نہیں

    بتاؤ کیا ہے میں اچھے سے جانتا ہوں تمہیں

    یہ طرز عشق و جنوں میری ہم نفس کا نہیں

    بتایا کرتی ہے لکڑی سے پھوٹتی کونپل

    کہ نام عشق کا رہتا ہے خار و خس کا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے