مرا معمہ غرض کا ہے دسترس کا نہیں
مرا معمہ غرض کا ہے دسترس کا نہیں
کہ میرا عشق میاں ایک دو برس کا نہیں
تجھے ملا ہوں تو معلوم یہ ہوا ہے مجھے
یہ کار عشق ہر اک خوبرو کے بس کا نہیں
ہم اہل عشق اسے مسئلہ نہیں کہتے
وہ مسئلہ جو محبت کا ہے ہوس کا نہیں
بھلے میں بعد ترے قید بے اماں میں رہوں
معاملہ مری مرضی کا ہے قفس کا نہیں
بتاؤ کیا ہے میں اچھے سے جانتا ہوں تمہیں
یہ طرز عشق و جنوں میری ہم نفس کا نہیں
بتایا کرتی ہے لکڑی سے پھوٹتی کونپل
کہ نام عشق کا رہتا ہے خار و خس کا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.