کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا
کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا
خرد نے کیوں نہیں معلوم اختلاف کیا
خدا نے اس طرح کلمہ میں اعتراف کیا
کہ اپنے نام سے اس نام کو مضاف کیا
نہ پائی شہر میں جب اپنے دل کی یکسوئی
تو جا کے دشت میں مجنوں نے اعتکاف کیا
جس ایک حکم سے تخلیق دو جہاں کی ہوئی
اس ایک حکم میں اجماع نون و کاف کیا
جلا کے چھوڑا پتنگے کو شمع نے آخر
اگرچہ اس نے بہت دور سے طواف کیا
گنہ سمجھ کے گنہ کب کیا ہے آدم نے
عروض زیست میں تبدیل اک زحاف کیا
کہاں سے کوہ میں فرہاد جوئے شیر آتی
جو کام تو نے کیا عقل کے خلاف کیا
دم ان کا پھرتا ہے رہ کر ہمارے پہلو میں
بڑا قصور ہے دل کا مگر معاف کیا
پچھاڑنے کے لئے آئے تھے جو لوگ مجھے
پچھڑ گئے تو مرے من کا اعتراف کیا
سگ نجس میں صفائی یہ کس بلا کی ہے
جہاں بھی بیٹھا ہے پہلے جگہ کو صاف کیا
خود اس کا گھر بھی بہا سب گھروں کے ساتھ عدیلؔ
ندی کے بند میں جس شخص نے شگاف کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.