Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا

نظیر علی عدیل

کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا

    خرد نے کیوں نہیں معلوم اختلاف کیا

    خدا نے اس طرح کلمہ میں اعتراف کیا

    کہ اپنے نام سے اس نام کو مضاف کیا

    نہ پائی شہر میں جب اپنے دل کی یکسوئی

    تو جا کے دشت میں مجنوں نے اعتکاف کیا

    جس ایک حکم سے تخلیق دو جہاں کی ہوئی

    اس ایک حکم میں اجماع نون و کاف کیا

    جلا کے چھوڑا پتنگے کو شمع نے آخر

    اگرچہ اس نے بہت دور سے طواف کیا

    گنہ سمجھ کے گنہ کب کیا ہے آدم نے

    عروض زیست میں تبدیل اک زحاف کیا

    کہاں سے کوہ میں فرہاد جوئے شیر آتی

    جو کام تو نے کیا عقل کے خلاف کیا

    دم ان کا پھرتا ہے رہ کر ہمارے پہلو میں

    بڑا قصور ہے دل کا مگر معاف کیا

    پچھاڑنے کے لئے آئے تھے جو لوگ مجھے

    پچھڑ گئے تو مرے من کا اعتراف کیا

    سگ نجس میں صفائی یہ کس بلا کی ہے

    جہاں بھی بیٹھا ہے پہلے جگہ کو صاف کیا

    خود اس کا گھر بھی بہا سب گھروں کے ساتھ عدیلؔ

    ندی کے بند میں جس شخص نے شگاف کیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے