غبار گل اگر دھونا نہ آئے
غبار گل اگر دھونا نہ آئے
تو شبنم کو کبھی رونا نہ آئے
یہ دھرتی تیرا آئینہ ہے لیکن
تجھے تو عکس بھی ہونا نہ آئے
یہ کن ہاتھوں میں ہے کھیتوں کی قسمت
وہ جن کو بیج بھی بونا نہ آئے
مجھے افلاس کا لوہا جکڑ لے
مگر اس ہاتھ میں سونا نہ آئے
انہیں کیا غیر میں معنی نظر آئیں
جنہیں اپنے سوا ہونا نہ آئے
جدھر بھی شہر میں نکلوں وہی شور
کوئی تنہائی کا کونا نہ آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.