دل میں ٹھہراؤ ہو اور ذہن روانی میں ہو
دل میں ٹھہراؤ ہو اور ذہن روانی میں ہو
کوئی کردار تو ایسا بھی کہانی میں ہو
آگ کو پانی بجھاتا ہے تو کیا حیرت ہے
آگ دہکانے کی قوت کسی پانی میں ہو
کاش اولاد کا یہ درد کوئی ماں نہ سہے
اس کی تدفین ہو اور عین جوانی میں ہو
یہ ریاضت ہو غزل میں کہ کوئی اک مصرع
خواب میں بھی اگر آئے تو روانی میں ہو
ضبط کو چھوڑ سکوں چیخ سکوں میں بھی کبھی
یہ سہولت تو مجھے اشک فشانی میں ہو
میں کسی اور کے حاصل کا طلبگار نہیں
میری تکمیل مرے خود کے معانی میں ہو
وہ جو اولی کی بھی عظمت کو بڑھائے قیصرؔ
بات ایسی تو کوئی مصرع ثانی میں ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.