Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل میں ٹھہراؤ ہو اور ذہن روانی میں ہو

فرحان عالم قیصر

دل میں ٹھہراؤ ہو اور ذہن روانی میں ہو

فرحان عالم قیصر

MORE BYفرحان عالم قیصر

    دل میں ٹھہراؤ ہو اور ذہن روانی میں ہو

    کوئی کردار تو ایسا بھی کہانی میں ہو

    آگ کو پانی بجھاتا ہے تو کیا حیرت ہے

    آگ دہکانے کی قوت کسی پانی میں ہو

    کاش اولاد کا یہ درد کوئی ماں نہ سہے

    اس کی تدفین ہو اور عین جوانی میں ہو

    یہ ریاضت ہو غزل میں کہ کوئی اک مصرع

    خواب میں بھی اگر آئے تو روانی میں ہو

    ضبط کو چھوڑ سکوں چیخ سکوں میں بھی کبھی

    یہ سہولت تو مجھے اشک فشانی میں ہو

    میں کسی اور کے حاصل کا طلبگار نہیں

    میری تکمیل مرے خود کے معانی میں ہو

    وہ جو اولی کی بھی عظمت کو بڑھائے قیصرؔ

    بات ایسی تو کوئی مصرع ثانی میں ہو

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے