دل میں جو ترے وسعت افلاک نہیں ہے
دل میں جو ترے وسعت افلاک نہیں ہے
مومن ہے مگر صاحب ادراک نہیں ہے
اے اہل نظر تو تو ہے ہر حال سے واقف
کیوں آنکھ تری دیدۂ نمناک نہیں ہے
کیا تجھ کو سمجھ آئے گی فرقت کی اذیت
نادان ترا دل تو ابھی چاک نہیں ہے
ہر چیز گوارا ہے مگر زہر رقابت
اس زہر کا پیارے کوئی تریاک نہیں ہے
اعصاب پہ لوگوں کے ہے اب خوف کا غلبہ
سب کچھ ہے مگر لہجۂ بے باک نہیں ہے
اب کون نکالے گا بھنور سے مری کشتی
تو ماہر گفتار ہے تیراک نہیں ہے
مشتاقؔ کہاں پہنچے ترے فکر کو اقبالؔ
جذبہ تو وہی ہے ولے ادراک نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.