بشر کے اور فرشتے کے درمیان میں ہوں
بشر کے اور فرشتے کے درمیان میں ہوں
میں اپنی ذات میں افضل ہوں اس گمان میں ہوں
نہ جی رہا ہوں نہ مر پا رہا سلیقے سے
غم حیات بتا کیسے امتحان میں ہوں
بھلے برے سبھی اعمال جانتا ہے وہ
میں اس لئے بھی سکوں میں ہوں اطمینان میں ہوں
یہ مشکلات مجھے یہ یقیں دلاتی ہیں
گناہگار سہی پھر بھی اس کے دھیان میں ہوں
انا پرست رہوں یا خدا بنا لوں اسے
میں دل دماغ کی کچھ ایسی کھینچ تان میں ہوں
یہ شاعری یہ فقیری ہے میرا سرمایہ
میں اس طرح کا اکیلا ہی خاندان میں ہوں
فنا کے در سے مجھے زندگی ملی قیصرؔ
زمیں میں دفن ہوا تب سے آسمان میں ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.