بن کے آنسو نہ کبھی آنکھ سے بہنا چاہوں
بن کے آنسو نہ کبھی آنکھ سے بہنا چاہوں
درد تیرا ہے زمانے سے نہ کہنا چاہوں
کس لیے مجھ کو سجاتے ہو سر بزم نشاط
پھول صحرا کا ہوں شہروں میں نہ رہنا چاہوں
ہر قدم آگے بڑھاتا ہوں میں دریا کی طرح
ایک ہی بات کو دوبارہ نہ کہنا چاہوں
میں ہوں وہ پیڑ جسے راس نہیں اپنا ثمر
اس قدر بوجھ ہے مجھ پر کہ میں ڈھہنا چاہوں
پھر اسے ملنے کو بے چین ہوا ہوں خاورؔ
کون سا دکھ ہے ابھی اور جو سہنا چاہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.