یہ نہ سمجھو کسی کوزے میں ٹھہر جاؤں گا
یہ نہ سمجھو کسی کوزے میں ٹھہر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
سجدہ ریزی کو پکارے گی زمین مقتل
سر پہ دستار جنوں لے کے جدھر جاؤں گا
سرنگوں موت بھی ہو جائے گی میرے آگے
سر بکف کوچۂ قاتل میں اگر جاؤں گا
میں تو سورج ہوں اگر توڑ بھی ڈالا تم نے
آسمانوں میں ستاروں سا بکھر جاؤں گا
بارہا تم نہ تعصب سے کریدو مجھ کو
میں تو جلتا ہوا شعلہ ہوں بپھر جاؤں گا
راہ انجان ہے پھیلا ہے اندھیرا ہر سو
تم سے بچھڑا تو بتاؤ میں کدھر جاؤں گا
چھوڑ کر زیست کی ہر ایک خوشی سارے غم
تیری دنیا سے کسی روز گزر جاؤں گا
آتش وقت نے پالا ہے بڑے نازوں سے
یہ نہ سمجھو کسی طوفان سے ڈر جاؤں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.