ہائے یہ کیسا ستم ہے دل بیمار کے ساتھ
ہائے یہ کیسا ستم ہے دل بیمار کے ساتھ
وصل ممکن نہ ہوا پھر کبھی دیدار کے ساتھ
دل کی دنیا میں کسی کو نہیں آنے دیں گے
زندگی تجھ کو گزاریں گے اب اغیار کے ساتھ
تم یہ کس وہم و گماں میں ہو مرے شہزادے
حسن ڈھل جائے گا سب وقت کی رفتار کے ساتھ
میرے مصرعے مرے جذبات کی عکاسی ہیں
کرب محسوس کرو تم مرے اشعار کے ساتھ
میرا آنچل مری عزت ہے سلامت رکھنا
سر اتاروں گی وگرنہ ترا دستار کے ساتھ
اس نے ایسے دیا الماسؔ محبت کا جواب
اس میں اقرار بھی پوشیدہ تھا انکار کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.