Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آوارہ پھریں کوچۂ دل‌‌ دار کے ہوتے

ظفر مرزاپوری

آوارہ پھریں کوچۂ دل‌‌ دار کے ہوتے

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    آوارہ پھریں کوچۂ دل‌‌ دار کے ہوتے

    کیوں جائیں کہیں ہم تری دیوار کے ہوتے

    دنیا مجھے نادار سمجھتی ہے تو سمجھے

    کیوں فکر کروں چشم گہر بار کے ہوتے

    توہین ہے یہ دست دعا کی مرے نزدیک

    مانگے کوئی کچھ اور ترے پیار کے ہوتے

    یہ حال تری بزم کا دیکھا نہیں جاتا

    بازار ہے ویران خریدار کے ہوتے

    یہ دولت بیداد کہاں سب کو میسر

    اب چاہئے کیا اور غم یار کے ہوتے

    فکر اپنی نہیں فکر ہے ناموس وفا کی

    یہ حال ہمارا تری سرکار کے ہوتے

    کیا اس سے سوا ہوگی ظفرؔ شومیٔ تقدیر

    بے آسرا ہم ہیں نگہ یار کے ہوتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے