آوارہ پھریں کوچۂ دل دار کے ہوتے
آوارہ پھریں کوچۂ دل دار کے ہوتے
کیوں جائیں کہیں ہم تری دیوار کے ہوتے
دنیا مجھے نادار سمجھتی ہے تو سمجھے
کیوں فکر کروں چشم گہر بار کے ہوتے
توہین ہے یہ دست دعا کی مرے نزدیک
مانگے کوئی کچھ اور ترے پیار کے ہوتے
یہ حال تری بزم کا دیکھا نہیں جاتا
بازار ہے ویران خریدار کے ہوتے
یہ دولت بیداد کہاں سب کو میسر
اب چاہئے کیا اور غم یار کے ہوتے
فکر اپنی نہیں فکر ہے ناموس وفا کی
یہ حال ہمارا تری سرکار کے ہوتے
کیا اس سے سوا ہوگی ظفرؔ شومیٔ تقدیر
بے آسرا ہم ہیں نگہ یار کے ہوتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.