آنکھ میں آنسو نہیں لب پر گلے شکوے نہیں
آنکھ میں آنسو نہیں لب پر گلے شکوے نہیں
عام لوگوں کی طرح ہم چاہنے والے نہیں
دیکھنے والے تھے جب تک وہ نظر آئے نہیں
اب نظر آنے لگے تو دیکھنے والے نہیں
دیکھتے ہیں آپ کے سب طور ہم اندھے نہیں
یہ الگ ہے بات اپنے منہ سے کچھ کہتے نہیں
آنے والے ان کے جلوؤں میں ہیں گم سنبھلے نہیں
لوٹ کر بھی ان کی محفل سے ابھی لوٹے نہیں
عیب پوشی کر کے اس نے لاج رکھ لی حشر میں
جو گنہ چھپ کر کئے تھے ہم نے وہ پوچھے نہیں
جو بھی دیکھیں گے کریں گے اس پر اظہار خیال
ہم زمانے کی طرح اندھے نہیں گونگے نہیں
اے لحد رہتا ہے تن کا ہوش کب مرنے کے بعد
لیکن آئے ہیں پہن کر ہم کفن ننگے نہیں
اور تو کچھ بھی نہیں ہے بس سمجھ کا پھیر ہے
وہ نہیں سمجھے ہیں یا پھر ہم انہیں سمجھے نہیں
کیوں مرے دشمن کئی دن سے بہت خاموش ہیں
کیا شرافت آ گئی ہے یا نئے حربے نہیں
طور کی چوٹی ہی پر غش کھا کے موسیٰ گر پڑے
وہ تو کہیے خیر گزری طور سے لڑھکے نہیں
دشمن ان کے بل پہ اتنا شیر ہے ورنہ عدیلؔ
اس کے اچھے بھی ہمارے آگے ٹک سکتے نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.