Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھ میں آنسو نہیں لب پر گلے شکوے نہیں

نظیر علی عدیل

آنکھ میں آنسو نہیں لب پر گلے شکوے نہیں

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    آنکھ میں آنسو نہیں لب پر گلے شکوے نہیں

    عام لوگوں کی طرح ہم چاہنے والے نہیں

    دیکھنے والے تھے جب تک وہ نظر آئے نہیں

    اب نظر آنے لگے تو دیکھنے والے نہیں

    دیکھتے ہیں آپ کے سب طور ہم اندھے نہیں

    یہ الگ ہے بات اپنے منہ سے کچھ کہتے نہیں

    آنے والے ان کے جلوؤں میں ہیں گم سنبھلے نہیں

    لوٹ کر بھی ان کی محفل سے ابھی لوٹے نہیں

    عیب پوشی کر کے اس نے لاج رکھ لی حشر میں

    جو گنہ چھپ کر کئے تھے ہم نے وہ پوچھے نہیں

    جو بھی دیکھیں گے کریں گے اس پر اظہار خیال

    ہم زمانے کی طرح اندھے نہیں گونگے نہیں

    اے لحد رہتا ہے تن کا ہوش کب مرنے کے بعد

    لیکن آئے ہیں پہن کر ہم کفن ننگے نہیں

    اور تو کچھ بھی نہیں ہے بس سمجھ کا پھیر ہے

    وہ نہیں سمجھے ہیں یا پھر ہم انہیں سمجھے نہیں

    کیوں مرے دشمن کئی دن سے بہت خاموش ہیں

    کیا شرافت آ گئی ہے یا نئے حربے نہیں

    طور کی چوٹی ہی پر غش کھا کے موسیٰ گر پڑے

    وہ تو کہیے خیر گزری طور سے لڑھکے نہیں

    دشمن ان کے بل پہ اتنا شیر ہے ورنہ عدیلؔ

    اس کے اچھے بھی ہمارے آگے ٹک سکتے نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے