Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

ظہور نظر

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

ظہور نظر

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی

زندگی اک دوسرے کو ڈھونڈنے میں کٹ گئی

جستجو میری بھی دشمن تھی عدو اس کی بھی تھی

میری باتوں میں بھی تلخی تھی سم تنہائی کی

زہر تنہائی میں ڈوبی گفتگو اس کی بھی تھی

وہ گیا تو کروٹیں لے لے کے پہلو تھک گئے

کس طرح سوتا مرے سانسوں میں بو اس کی بھی تھی

رات بھر آنکھوں میں اس کا مرمریں پیکر رہا

چاندنی کے جھلملانے میں نمو اس کی بھی تھی

گھر سے اس کا بھی نکلنا ہو گیا آخر محال

میری رسوائی سے شہرت کو بہ کو اس کی بھی تھی

میں ہوا خائف تو اس کے بھی اڑے ہوش و حواس

میری جو صورت ہوئی وہ ہو بہ ہو اس کی بھی تھی

کچھ مجھے بھی سیدھے سادھے راستوں سے بیر ہے

کچھ بھٹک جانے کے باعث جستجو اس کی بھی تھی

وہ جسے سارے زمانے نے کہا میرا رقیب

میں نے اس کو ہم سفر جانا کہ تو اس کی بھی تھی

دشت فرقت کا سفر بھی آخرش طے ہو گیا

اور کچھ دن ساتھ دیتا آرزو اس کی بھی تھی

بات بڑھنے کو تو بڑھ جاتی بہت لیکن نظرؔ

میں بھی کچھ کم گو تھا چپ رہنے کی خو اس کی بھی تھی

مأخذ :
  • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 72)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے