کشتی کو بھی دیکھوں میں کناروں کو بھی دیکھوں
کشتی کو بھی دیکھوں میں کناروں کو بھی دیکھوں
راہوں کی تپش راہ گزاروں کو بھی دیکھوں
دیکھا ہے تمہیں آج تو کیسے ہے یہ ممکن
میں آسماں پہ چاند ستاروں کو بھی دیکھوں
جس راہ پہ لگ جاتی ہے ایمان کی بولی
اس راہ پہ چلتا ہوا یاروں کو بھی دیکھوں
ہونا کوئی مہتاب میاں سہل نہیں ہے
روشن بھی رہوں رات کے ماروں کو بھی دیکھوں
ممکن ہے کہ جس صف میں مرا خون بہے گا
اس صف میں کھڑے جان سے پیاروں کو بھی دیکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.