چاک دامن کو کئی بار سیے جاتا ہوں
چاک دامن کو کئی بار سیے جاتا ہوں
بس اسی فکر میں دن رات جیے جاتا ہوں
ایک تو ہے کہ میسر نہیں ہونے والا
ایک میں ہوں کہ یقیں تجھ پہ کیے جاتا ہوں
اپنے قاتل کو کلیجے سے لگایا تھا کبھی
آج تک خون کے آنسو میں پیے جاتا ہوں
کیا کہا اس نے ابھی مجھ سے محبت ہی نہیں
اور میں ہوں کہ اسے یاد کیے جاتا ہوں
زندگی تجھ کو یہاں کس کے بھروسے چھوڑوں
بس یہی سوچ کے مر مر کے جیے جاتا ہوں
ایک تو رات کے سناٹے کا عالم ہے ابھی
اور حبیبؔ اس کو میں آواز دیے جاتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.