Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بجھنے لگی نظر تو مجھے بولنا پڑا

سید فاطر شہید

بجھنے لگی نظر تو مجھے بولنا پڑا

سید فاطر شہید

MORE BYسید فاطر شہید

    بجھنے لگی نظر تو مجھے بولنا پڑا

    جلنے لگا جو گھر تو مجھے بولنا پڑا

    آنکھوں سے نفرتوں کا ٹپکنے لگا لہو

    کٹنے لگے جو سر تو مجھے بولنا پڑا

    رسوائی کھا چکی مرے آنگن کی رونقیں

    چیخے جو بام و در تو مجھے بولنا پڑا

    فاقوں کی سولیوں پہ بڑی مصلحت کے ساتھ

    چڑھنے لگے بشر تو مجھے بولنا پڑا

    وہ مجھ سے کہہ رہا تھا دھماکے پہ صبر کر

    میں تھا لہو میں تر تو مجھے بولنا پڑا

    اتریں گی کب وطن میں پرندوں کی ٹولیاں

    حاکم تھے بے خبر تو مجھے بولنا پڑا

    کتنے سویرے بھسم ہوئے شام جل بجھیں

    لوٹا نہ کوئی گھر تو مجھے بولنا پڑا

    بارود سے جھلس گئے پتوں کے آشیاں

    چپ ہو گئے شجر تو مجھے بولنا پڑا

    فاطرؔ مری رگوں میں لہو کربلا کا ہے

    بازو رہے نہ سر تو مجھے بولنا پڑا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے