بجھنے لگی نظر تو مجھے بولنا پڑا
بجھنے لگی نظر تو مجھے بولنا پڑا
جلنے لگا جو گھر تو مجھے بولنا پڑا
آنکھوں سے نفرتوں کا ٹپکنے لگا لہو
کٹنے لگے جو سر تو مجھے بولنا پڑا
رسوائی کھا چکی مرے آنگن کی رونقیں
چیخے جو بام و در تو مجھے بولنا پڑا
فاقوں کی سولیوں پہ بڑی مصلحت کے ساتھ
چڑھنے لگے بشر تو مجھے بولنا پڑا
وہ مجھ سے کہہ رہا تھا دھماکے پہ صبر کر
میں تھا لہو میں تر تو مجھے بولنا پڑا
اتریں گی کب وطن میں پرندوں کی ٹولیاں
حاکم تھے بے خبر تو مجھے بولنا پڑا
کتنے سویرے بھسم ہوئے شام جل بجھیں
لوٹا نہ کوئی گھر تو مجھے بولنا پڑا
بارود سے جھلس گئے پتوں کے آشیاں
چپ ہو گئے شجر تو مجھے بولنا پڑا
فاطرؔ مری رگوں میں لہو کربلا کا ہے
بازو رہے نہ سر تو مجھے بولنا پڑا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.