اپنے خوں سے سینچتے جس کو زمانہ ہو گیا
اپنے خوں سے سینچتے جس کو زمانہ ہو گیا
یاد کا وہ پیڑ بھی اب تو پرانا ہو گیا
جل رہا ہوں میں گھنے جنگل کی ٹھنڈی چھاؤں میں
کیا درختوں کا چلن بھی دوستانہ ہو گیا
میں سکون دل کی خاطر شہر میں آ کر بسا
شہر کا ہر فرد جنگل کو روانہ ہو گیا
پہلے بھی موجوں کی ساحل سے کہاں تھی دوستی
میرا پتھر پھینکنا تو اک بہانہ ہو گیا
ان کے تیور دیکھ کر غیرت مری بل کھا گئی
اس لیے تو میرا لہجہ جارحانہ ہو گیا
اس کی دیواروں سے مجھ کو خوف آتا ہے رؤفؔ
جس مکاں میں مجھ کو رہتے اک زمانہ ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.