خزاں میں ڈوبا ہوا ہے بہار کا موسم
خزاں میں ڈوبا ہوا ہے بہار کا موسم
بجھا بجھا سا ہے دل کے دیار کا موسم
ملے ہیں ہجر کے لمحے متاع الفت میں
لٹائے بیٹھے ہیں دل کے قرار کا موسم
نہال عمر پہ ایسی خزاں اتر آئی
کہیں پہ کھو گیا رنگ و بہار کا موسم
دھواں دھواں ہیں بدن سوختہ گلابوں کے
روش روش میں بسا ہے چنار کا موسم
نہ پوچھ حال کہ دل کا عجیب عالم ہے
کبھی ہے جبر کبھی اختیار کا موسم
خروش دل ہے کہ ہے شور کوئی مقتل میں
الجھ رہا ہے رگ جاں سے دار کا موسم
ہوا کی گونج میں بھی تم سنائی دیتے ہو
در جنوں نے دیا ہے پکار کا موسم
روانہ ہونے کو ہے شوق کا ہر اک لمحہ
بدلنے والا ہے شہر نگار کا موسم
نگاہ زیست ابھی تک ہے مہرباں صولتؔ
ہے نخل جاں پہ ابھی برگ و بار کا موسم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.