اب اس سے بڑھ کے بھی کیا اپنا اختیار چلے
اب اس سے بڑھ کے بھی کیا اپنا اختیار چلے
ہم آئے در پہ ترے اور تجھے پکار چلے
تو جس گلی سے بھی نکلے جدھر سے بھی گزرے
ترے قدم بہ قدم موسم بہار چلے
یہ بے خودئ نظر ہے کہ انتہائی طلب
ترے ہی ساتھ لیے تیرا انتظار چلے
بہت تھا دید تجلی کا حوصلہ ہم کو
سو ہم گنوا کے نظر کا بھی اعتبار چلے
بڑے بھرے ہوئے غصے میں آئے تھے ناصح
برسنے آئے تھے اور بن کے بادہ خوار چلے
یہی بہار ہے یارو تو پھر خزاں کیا ہے
نہ دور جام چلے اور نہ ذکر یار چلے
بتا کبھی کوئی ہم نے بھی حرف طنز کہا
تری طرف سے تو یہ تیر کتنی بار چلے
کچھ ان کی فکر بھی کی قافلے نے منزل پر
وہ کیا رفیق نہ تھے جو پس غبار چلے
عزیزو اپنا سفر اب گراں نہ ہوگا تمہیں
تمہارے کرب کے دن بھی ہمیں گزار چلے
وہ چاہے رہ گزر یار ہو کہ منزل دار
چلے جدھر بھی ہم اقبالؔ نغمہ بار چلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.