Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب اس سے بڑھ کے بھی کیا اپنا اختیار چلے

اقبال صفی پوری

اب اس سے بڑھ کے بھی کیا اپنا اختیار چلے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    اب اس سے بڑھ کے بھی کیا اپنا اختیار چلے

    ہم آئے در پہ ترے اور تجھے پکار چلے

    تو جس گلی سے بھی نکلے جدھر سے بھی گزرے

    ترے قدم بہ قدم موسم بہار چلے

    یہ بے خودئ نظر ہے کہ انتہائی طلب

    ترے ہی ساتھ لیے تیرا انتظار چلے

    بہت تھا دید تجلی کا حوصلہ ہم کو

    سو ہم گنوا کے نظر کا بھی اعتبار چلے

    بڑے بھرے ہوئے غصے میں آئے تھے ناصح

    برسنے آئے تھے اور بن کے بادہ خوار چلے

    یہی بہار ہے یارو تو پھر خزاں کیا ہے

    نہ دور جام چلے اور نہ ذکر یار چلے

    بتا کبھی کوئی ہم نے بھی حرف طنز کہا

    تری طرف سے تو یہ تیر کتنی بار چلے

    کچھ ان کی فکر بھی کی قافلے نے منزل پر

    وہ کیا رفیق نہ تھے جو پس غبار چلے

    عزیزو اپنا سفر اب گراں نہ ہوگا تمہیں

    تمہارے کرب کے دن بھی ہمیں گزار چلے

    وہ چاہے رہ گزر یار ہو کہ منزل دار

    چلے جدھر بھی ہم اقبالؔ نغمہ بار چلے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے