آتش غم سے وہ رخسار دمکتے دیکھے
آتش غم سے وہ رخسار دمکتے دیکھے
ہم نے گلزار خزاں میں بھی مہکتے دیکھے
شکوۂ تیرہ شبی بھول گئے اہل وفا
ان کی پلکوں پہ ستارے جو چمکتے دیکھے
رات بھیگی تو سلگنے لگا دامان خیال
سیکڑوں نشتر غم دل میں کھٹکتے دیکھے
کتنے چہروں پہ جمی دیکھی ہے احساس کی گرد
کتنے سینوں میں الاؤ سے دہکتے دیکھے
لاکھ صیاد نے نغموں پہ بٹھائے پہرے
خوش نوایان چمن پھر بھی چہکتے دیکھے
ہم یہ سمجھے کہ صفیران چمن آئے ہیں
خشک پتے جو کہیں دور کھڑکتے دیکھے
پیار سے تھام لیے تند بگولوں نے قدم
دشت میں جب ترے دیوانے بھٹکتے دیکھے
دوست بن کر جو کسی نے ہمیں مایوس کیا
کتنے پردے نگہ و دل سے سرکتے دیکھے
جانے کیا بات تھی ان مست نگاہوں میں کلیمؔ
ہم نے ایمان ہزاروں کے بہکتے دیکھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.