Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آتش غم سے وہ رخسار دمکتے دیکھے

کلیم عثمانی

آتش غم سے وہ رخسار دمکتے دیکھے

کلیم عثمانی

MORE BYکلیم عثمانی

    آتش غم سے وہ رخسار دمکتے دیکھے

    ہم نے گلزار خزاں میں بھی مہکتے دیکھے

    شکوۂ تیرہ شبی بھول گئے اہل وفا

    ان کی پلکوں پہ ستارے جو چمکتے دیکھے

    رات بھیگی تو سلگنے لگا دامان خیال

    سیکڑوں نشتر غم دل میں کھٹکتے دیکھے

    کتنے چہروں پہ جمی دیکھی ہے احساس کی گرد

    کتنے سینوں میں الاؤ سے دہکتے دیکھے

    لاکھ صیاد نے نغموں پہ بٹھائے پہرے

    خوش نوایان چمن پھر بھی چہکتے دیکھے

    ہم یہ سمجھے کہ صفیران چمن آئے ہیں

    خشک پتے جو کہیں دور کھڑکتے دیکھے

    پیار سے تھام لیے تند بگولوں نے قدم

    دشت میں جب ترے دیوانے بھٹکتے دیکھے

    دوست بن کر جو کسی نے ہمیں مایوس کیا

    کتنے پردے نگہ‌ و دل سے سرکتے دیکھے

    جانے کیا بات تھی ان مست نگاہوں میں کلیمؔ

    ہم نے ایمان ہزاروں کے بہکتے دیکھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے