ہنستے ہنستے وہ ترا ہم کو رلانا یاد ہے
ہنستے ہنستے وہ ترا ہم کو رلانا یاد ہے
ہم کو تیری دل لگی کا وہ زمانہ یاد ہے
آج تک ہم نے نہ پایا ایک بھی خط کا نشاں
نام پڑھتے ہی مرا خط کو جلانا یاد ہے
رات دن تیرے خیالوں میں گزرتے تھے کبھی
رات دن تیرا ہمیں وہ یاد آنا یاد ہے
وہ نہ ملنے کے لیے ہم سے بہانہ بھی ترا
غیر کے ہر اک بلانے پر بھی جانا یاد ہے
میرے آتے ہی وہ ان کی خامشی بھی ارسلانؔ
اور مرے جاتے وہ ان کا لب ہلانا یاد ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.