تیرے شہر رنگ و بو کے منظر جھوٹے لگتے ہیں
تیرے شہر رنگ و بو کے منظر جھوٹے لگتے ہیں
سارے آذر مصنوعی ہیں پتھر جھوٹے لگتے ہیں
جنگ بقا اک ناٹک جیسی زخم ہیں رنگوں کے دھبے
رقص جنوں ہے ایک نمائش خنجر جھوٹے لگتے ہیں
جشن بہاراں اک دھوکا ہے پھول ہیں سارے کاغذ کے
خشک ہے ساگر سیپ ہے نقلی گوہر جھوٹے لگتے ہیں
بزم وفا ہے سونی سونی شمع تمنا ہے خاموش
کوچۂ جاناں اجڑا اجڑا دلبر جھوٹے لگتے ہیں
نعروں میں جذبات نہیں ہیں آوازیں ہیں خالی ڈھول
جملے بے دم لفظ ہیں ساکت مصدر جھوٹے لگتے ہیں
آج بھی سرمد ہے سولی پر زہر پیے جائے سقراط
آج بھی ہے انصاف پشیماں داور جھوٹے لگتے ہیں
چلتے چلتے تھک گئیں آنکھیں صبح ملی تو کالی سی
یہ بھی علیؔ ہے کوئی منزل رہبر جھوٹے لگتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.